سورہ Ibrahim — آیت 14
ابراہیم · 14:14 · 14/52
وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِى وَخَافَ وَعِيدِ
Walanuskinannakumu al-arda minbaAAdihim thalika liman khafa maqamee wakhafawaAAeed
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کرے
محمد جوناگڑھی
اور ان کے بعد ہم خود تمہیں اس زمین میں بسائیں گے۔ یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میری وعید سے خوفزده رہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضُور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ہم آباد کریں گے زمین میں تم لوگوں کو ان کے بعد یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے اور میری وعید سے ڈرتے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور ان کے بعد ہم خود تمہیں اس زمین میں بسائیں گے[1] ۔ یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میری وعید سے خوفزده رہیں.[2]
حواشی
[1] یہ مضمون بھی اللہ نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے مثلاً، «وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ» (الأنبياء:105) ۔ ”ہم نے لکھ دیا زبور میں، نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے“۔ (مزید دیکھئے سورۃ الاعراف: 128، 137) چنانچہ اس کے مطابق اللہ تعالٰی نے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی مدد فرمائی، آپ کو با دل نخواستہ مکے سے نکلنا پڑا لیکن چند سالوں بعد ہی آپ فاتحانہ مکے میں داخل ہوئے اور آپ کو نکلنے پر مجبور کرنے والے ظالم مشرکین سر جھکائے، کھڑے آپ کے اشارہ ابرو کے منتظر تھے لیکن آپ (صلى الله عليه وسلم)نے خلق عظیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے «لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ» (یوسف:92) کہہ کر سب کو معاف فرما دیا۔ صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلاَمُهُ عَلَيْهِ [2] جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔«وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى» ( النازعات: 40-41)۔ ”جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکے رکھا یقینا جنت اس کا ٹھکانہ ہے“۔ «وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ» (النازعات :46)۔ ”جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں“۔