سورہ Hud — آیت 12
حود · 11:12 · 12/123
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيْكَ وَضَآئِقٌۢ بِهِۦ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَآءَ مَعَهُۥ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَآ أَنتَ نَذِيرٌ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ وَكِيلٌ
FalaAAallaka tarikun baAAda mayooha ilayka wada-iqun bihi sadruka anyaqooloo lawla onzila AAalayhi kanzun aw jaamaAAahu malakun innama anta natheerun wallahuAAala kulli shay-in wakeel
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو اور اس (خیال) سے کہ تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اے محمدﷺ! تم تو صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے
محمد جوناگڑھی
پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تو اے پیغمبر ؐ ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُن چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کرنے سے ) چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں۔ اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے ”اسِ شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اُتارا گیا“ یا یہ کہ ”اِس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا۔“ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو (اے نبی !) شاید آپ کچھ چیزیں چھوڑ دیں اس میں سے جو آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے اور آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو رہا ہے جو وہ کہہ رہے ہیں کہ کیوں نہیں ان کے اوپر اتار دیا گیا کوئی خزانہ یا کیوں نہیں آیا ان کے پاس کوئی فرشتہ اے نبی !) آپ تو صرف خبردار کرنے والے ہیں اور ہرچیز کا ذمہ دار اللہ ہے