سورہ Ghafir — آیت 83
بخشنے والا · 40:83 · 83/85
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَرِحُوا۟ بِمَا عِندَهُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
Falamma jaat-hum rusuluhum bilbayyinatifarihoo bima AAindahum mina alAAilmi wahaqabihim ma kanoo bihi yastahzi-oon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
محمد جوناگڑھی
پس جب بھی ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر اترانے لگے، بالﺂخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وه ان پر الٹ پڑی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جب ان کے رسُول ان کے پاس بیّنات لے کر آئے تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا، اور پھر اُسی چیز کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو جب آگئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر تو وہ اتراتے رہے اسی پر جو بھی علم ان کے پاس تھا اور گھیرے میں لے لیا انہیں اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے