سورہ Ghafir — آیت 4
بخشنے والا · 40:4 · 4/85
مَا يُجَـٰدِلُ فِىٓ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِى ٱلْبِلَـٰدِ
Ma yujadilu fee ayatiAllahi illa allatheena kafaroo falayaghrurka taqallubuhum fee albilad
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے
محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے۔ اِس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چَلَت پھِرَت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
نہیں جھگڑتے اللہ کی آیات میں مگر وہی لوگ جو کفر کرتے ہیں تو (اے نبی ﷺ !) زمین میں ان کی چلت پھرت آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں[1] جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے.[2]
حواشی
[1] اس جھگڑے سےمراد ناجائز اور باطل جھگڑا (جدال) ہے جس کامقصد حق کی تکذیب اور اس کی تردید و تغلیظ ہے ورنہ جس جدال (بحث و مناظرہ) کامقصد ایضاح حق، ابطال باطل اور منکرین و معترضین کے شبہات کا ازالہ ہو، وہ مذموم نہیں نہایت محمود ومستحسن ہے۔ بلکہ اہل علم کو تو اس کی تاکید کی گئی ہے، لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ (آل عمران: 187) ”تم اسے لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرنا، اسے چھپانا نہیں“۔ بلکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کے دلائل و براہین کوچھپانا اتنا سخت جرم ہے کہ اس پرکائنات کی ہر چیز لعنت کرتی ہے، (البقرۃ: 159)۔ [2] یعنی یہ کافر و مشرک جو تجارت کرتے ہیں، اس کے لیے مختلف شہروں میں آتے جاتے اور کثیر منافع حاصل کرتے ہیں، یہ اپنے کفر کی وجہ سے جلد ہی مواخذۂ الٰہی میں آجائیں گے، یہ مہلت ضروردیئے جارہےہیں لیکن انہیں مہمل نہیں چھوڑاجائے گا۔