سورہ Fatir — آیت 8
پیدا کرنے والا · 35:8 · 8/45
أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنًا ۖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَٰتٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَصْنَعُونَ
Afaman zuyyina lahu soo-o AAamalihi faraahuhasanan fa-inna Allaha yudillu man yashaowayahdee man yashao fala tathhab nafsukaAAalayhim hasaratin inna Allaha AAaleemunbima yasnaAAoon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کرکے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکوکار آدمی جیسا ہوسکتا ہے)۔ بےشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تو ان لوگوں پر افسوس کرکے تمہارا دم نہ نکل جائے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے
محمد جوناگڑھی
کیا پس وه شخص جس کے لئے اس کے برے اعمال مزین کردیئے گئے ہیں پس وه انہیں اچھاسمجھتا ہے (کیا وه ہدایت یافتہ شخص جیسا ہے)، (یقین مانو) کہ اللہ جسے چاہے گمراه کرتا ہے اور جسے چاہے راه راست دکھاتا ہے۔ پس آپ کو ان پر غم کھا کھا کر اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالنی چاہیئے، یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے یقیناً اللہ تعالیٰ بخوبی واقف ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(بھلا کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا)جس کے لیے اُس کا بُرا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے۔ پس (اے نبیؐ)خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم و افسوس میں نہ گھُلے۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو کیا وہ شخص جس کے لیے مزین ّکر دی گئی ہو اس کے عمل کی برائی اور وہ اسے اچھاسمجھ رہا ہو (ہدایت پاسکتا ہے تو اللہ گمراہ کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے تو (اے نبی ﷺ !) آپ کی جان نہ گھلے ان لوگوں پر رنج کی وجہ سے } یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ کہ یہ لوگ کر رہے ہیں۔