سورہ Fatir — آیت 43
پیدا کرنے والا · 35:43 · 43/45
ٱسْتِكْبَارًا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَكْرَ ٱلسَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلْمَكْرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِۦ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحْوِيلًا
Istikbaran fee al-ardi wamakraassayyi-i wala yaheequ almakru assayyi-oilla bi-ahlihi fahal yanthuroona illasunnata al-awwaleena falan tajida lisunnati Allahitabdeelan walan tajida lisunnati Allahi tahweela
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے
محمد جوناگڑھی
دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہ زمین میں اور زیادہ استکبار کرنے لگے اور بُری بُری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اِس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کو جو طریقہ رہا ہے وہی اِن کے ساتھ بھی برتا جائے؟ ہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ پاوٴ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سُنّت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
زمین میں تکبر کرتے ہوئے اور ُ بری چالیں چلتے ہوئے اور ُ بری چال کا وبال نہیں پڑتا مگر اس کے چلنے والے پر ہی تو وہ کس چیز کے انتظار میں ہیں سوائے پہلے والوں کے انجام کے تو تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون کو رخ پھیرتے ہوئے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
دنیا میں اپنے کو بڑا سمجھنے کی وجہ سے[1] ، اور ان کی بری تدبیروں کی وجہ سے[2] اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے[3]، سو کیا یہ اسی دستور کے منتظر ہیں جو اگلے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے[4]۔ سو آپ اللہ کے دستور کو کبھی بدلتا ہوا نہ پائیں گے[5]، اور آپ اللہ کے دستور کو کبھی منتقل ہوتا ہوا نہ پائیں گے.[6]
حواشی
[1] یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لانے کے بجائے انکار و مخالفت کا راستہ محض استکبار اور سرکشی کی وجہ سے اختیار کیا۔ [2] اور بری تدبیر یعنی حیلہ، دھوکہ اور عمل قبیح کی وجہ سے کیا۔ [3] یعنی لوگ مکر وحیلہ کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ بری تدبیر کا انجام برا ہی ہوتا ہے اور اس کا وبال بالآخر مکر وحیلہ کرنے والوں پر ہی پڑتا ہے۔ [4] یعنی کیا یہ اپنے کفروشرک، رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مخالفت اور مومنوں کو ایذائیں پہنچانے پر مصر رہ کر اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں بھی اس طرح ہلاک کیا جائے، جس طرح پچھلی قومیں ہلاکت سے دوچار ہوئیں؟ [5] بلکہ یہ اسی طرح جاری ہے اور ہر مکذب (جھٹلانے والے) کا مقدر ہلاکت ہے یا بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کے عذاب کو رحمت سے بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ [6] یعنی کوئی اللہ کے عذاب کو دور کرنے والا یا اس کا رخ پھیرنے والا نہیں ہے یعنی جس قوم کو اللہ عذاب سے دوچار کرنا چاہے، کوئی اس کا رخ کسی اور قوم کی طرف پھیر دے، کسی میں یہ طاقت نہیں ہے۔ مطلب اس سنت اللہ کی وضاحت سے مشرکین عرب کو ڈرانا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے، وہ کفروشرک چھوڑ کر ایمان لے آئیں، ورنہ وہ اس سنت الٰہی سے بچ نہیں سکتے، دیر سویر اس کی زد میں آکر رہیں گے، کوئی اس قانون الٰہی کو بدلنے پر قادر ہے اور نہ عذاب الٰہی کو پھیرنے پر۔