سورہ Fatir — آیت 42

پیدا کرنے والا · 35:42 · 42/45

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى ٱلْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا

Waaqsamoo billahi jahda aymanihimla-in jaahum natheerun layakoonunna ahda minihda al-omami falamma jaahum natheerunma zadahum illa nufoora

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی

محمد جوناگڑھی

اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا  کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دُوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے۔ مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آگیا تو اس کی آمد نے اِن کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والاآیا تو وہ لازماً ہدایت یافتہ ہوجائیں گے کسی بھی امت سے بڑھ کر پھر جب آگئے ان کے پاس خبردار کرنے والے (محمد ﷺ تو اس چیز نے ان کے اندر (حق سے) فرار کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں[1] ۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے[2] تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا.

حواشی

[1] اس میں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا کہ بعثت محمدی سے قبل یہ مشرکین عرب قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری طرف کوئی رسول آیا، تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے اور اس پر ایمان لانے میں ایک مثالی کردار ادا کریں گے۔ (یہ مضمون دیگر مقامات پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ الانعام:156 - 157 الصافات: 167 - 170) [2] یعنی حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) ان کے پاس نبی بن کر آگئے جن کے لئےوہ تمنا کرتے تھے۔