سورہ Fatir — آیت 14

پیدا کرنے والا · 35:14 · 14/45

إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا۟ دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا۟ مَا ٱسْتَجَابُوا۟ لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ

In tadAAoohum la yasmaAAoo duAAaakumwalaw samiAAoo ma istajaboo lakum wayawma alqiyamatiyakfuroona bishirkikum wala yunabbi-oka mithlu khabeer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

محمد جوناگڑھی

اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

انہیں پکارو تو وہ تمہاری دُعائیں سُن نہیں سکتے اور سُن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے۔ حقیقت ِ حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبر دار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری دعا قبول نہیں کرسکتے اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور نہیں آگاہ کرے گا کوئی بھی آپ کو اس (اللہ) کی طرح جو ہرچیز سے باخبر ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اگر تم انہیں پکارو تو وه تمہاری پکار سنتے ہی نہیں[1] اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے[2]، بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے[3]۔ آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا.[4]

حواشی

[1] یعنی اگر تم انہیں مصائب میں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں، کیونکہ وہ جمادات ہیں یامنوں مٹی کے نیچے مدفون۔ [2] یعنی اگر بالفرض وہ سن بھی لیں تو بےفائدہ، اس لئے کہ وہ تمہاری التجاؤں کے مطابق تمہارا کام نہیں کرسکتے۔ [3] اور کہیں گے «مَا كُنْتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ» (يونس: 28) ”تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے“۔ «إِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِينَ» (يونس: 29) ”ہم تو تمہاری عبادت سے بےخبر تھے“۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، وہ سب پتھر کی مورتیاں ہی نہیں ہوں گی، بلکہ ان میں عاقل (ملائکہ، جن، شیاطین اور صالحین) بھی ہوں گے۔ تب ہی تو یہ انکار کریں گے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی حاجت براری کے لئے پکارنا شرک ہے۔ [4] اس لئے کہ اس جیسا کامل علم کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ وہی تمام امور کی کنہ اور حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے جس میں ان پکارﮮ جانے والوں کی بےاختیاری، پکار کو نہ سننا اور قیامت کے دن اس کا انکار کرنا بھی شامل ہے۔