سورہ Az-Zumar — آیت 29
گروہ · 39:29 · 29/75
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيهِ شُرَكَآءُ مُتَشَـٰكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
Daraba Allahu mathalan rajulanfeehi shurakao mutashakisoona warajulan salamanlirajulin hal yastawiyani mathalan alhamdu lillahibal aktharuhum la yaAAlamoon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں۔ (مختلف المزاج اور) بدخو اور ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے۔ بھلا دونوں کی حالت برابر ہے۔ (نہیں) الحمدلله بلکہ یہ اکثر لوگ نہیں جانتے
محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ مثال بیان فرما رہا ہے ایک وه شخص جس میں بہت سے باہم ضد رکھنے والے ساجھی ہیں، اور دوسرا وه شخص جو صرف ایک ہی کا (غلام) ہے، کیا یہ دونوں صفت میں یکساں ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ سمجھتے نہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیّت میں بہت سے کج خُلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دُوسرا شخص پُورا کا پُورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے؟ ۔۔۔۔ الحمدُ للہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ نے مثال بیان فرمائی ہے ایک شخص کی جس میں بہت سے آپس میں ضد رکھنے والے آقا شریک ہیں اور ایک وہ شخص ہے جو پورے طور پر ایک ہی آقا کا غلام ہے کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں مثال میں ؟ کل ُ تعریف اللہ کے لیے ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی