سورہ Az-Zukhruf — آیت 86

سونے کی چمک · 43:86 · 86/89

وَلَا يَمْلِكُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلشَّفَـٰعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

Wala yamliku allatheenayadAAoona min doonihi ashshafaAAata illaman shahida bilhaqqi wahum yaAAlamoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

محمد جوناگڑھی

جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، اِلّا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور کوئی اختیار نہیں رکھتے کسی بھی شفاعت کا جن کو یہ پکار رہے ہیں اللہ کے سوا سوائے اس کے کہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے[1] ، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو.[2]

حواشی

[1] یعنی دنیا میں جن بتوں کی یہ عبادت کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔ ان معبودوں کو شفاعت کا قطعاً کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ [2] حق بات سے مراد کلمہ توحید لاالٰہ الااللہ ہے اور یہ اقرار بھی علم و بصیرت کی بنیاد پر ہو، محض رسمی اور تقلیدی نہ ہو۔ یعنی زبان سے کلمۂ توحید ادا کرنے والے کو پتہ ہو کہ اس میں صرف ایک اللہ کا اثبات اور دیگر تمام معبودوں کی نفی ہے، پھر اس کے مطابق اس کا عمل ہو۔ ایسے لوگوں کے حق میں اہل شفاعت کی شفاعت مفید ہوگی۔ یا مطلب ہے کہ شفاعت کرنے کا حق صرف ایسے لوگوں کو ملے گا جو حق کا اقرار کرنے والے ہوں گے، یعنی انبیا وصالحین اور فرشتے۔ نہ کہ معبود ان باطل کو، جنہیں مشرکین اپنا شفاعت کنندہ خیال کرتے ہیں۔