سورہ Az-Zukhruf — آیت 28

سونے کی چمک · 43:28 · 28/89

وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِى عَقِبِهِۦ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

WajaAAalaha kalimatan baqiyatanfee AAaqibihi laAAallahum yarjiAAoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں

محمد جوناگڑھی

اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور ابراہیم ؑ  یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اس نے اسی بات کو باقی رکھا اپنے پیچھے (اپنی اولاد میں) بھی تاکہ وہ (اللہ ہی کی جناب میں) رجوع کیے رہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات[1] قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں.[2]

حواشی

[1] یعنی اس کلمۂ لا إِلَهَ إِلا الله ُ کی وصیت اپنی اولاد کو کر گئے۔ جیسے فرمایا وَوَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ (البقرة: 132) بعض نے جَعَلَهَا میں فاعل اللہ کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ نے اس کلمے کو ابراہیم (عليه السلام) کے بعد ان کی اولاد میں باقی رکھا اور وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ [2] یعنی اولاد ابراہیم میں یہ موحدین اس لیے پیدا کیے تاکہ ان کے توحید کے وعظ سے لوگ شرک سے باز آتے رہیں۔ لَعَلَّهُمْ میں ضمیر کا مرجع اہل مکہ ہیں یعنی شاید اہل مکہ اس دین کی طرف لوٹ آئیں جو حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا دین تھا جو خالص توحید پر مبنی تھا نہ کہ شرک پر۔