سورہ At-Tawbah — آیت 97
توبہ · 9:97 · 97/129
ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا۟ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
Al-aAArabu ashaddu kufran wanifaqanwaajdaru alla yaAAlamoo hudooda ma anzalaAllahu AAala rasoolihi wallahuAAaleemun hakeem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
محمد جوناگڑھی
دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور ان کو ایسا ہونا ہی چاہئے کہ ان کو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں اور اللہ بڑا علم واﻻ بڑی حکمت واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یہ بدو لوگ کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور زیادہ اس لائق ہیں کہ ناواقف ہوں اس چیز کی حدود سے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں[1] اور ان کو ایسا ہونا ہی چاہئے کہ ان کو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے[2] ہیں اور اللہ بڑا علم واﻻ بڑی حکمت واﻻ ہے۔
حواشی
[1] مذکورہ آیات میں ان منافقین کا تذکرہ تھا جو مدینہ شہر میں رہائش پذیر تھے۔ اور کچھ منافقین وہ بھی تھے جو بادیہ نشین یعنی مدینہ کے باہر دیہاتوں میں رہتے تھے، دیہات کے ان باشندوں کو اعراب کہا جاتا ہے جو اعرابی کی جمع ہے شہریوں کے اخلاق و کردار میں درشتی اور کھردراپن زیادہ پایا جاتا ہے اس طرح ان میں جو کافر اور منافق تھے وہ کفر و نفاق میں بھی شہریوں سے زیادہ سخت اور احکام شریعت سے زیادہ بےخبر تھے اس آیت میں انہی کا تذکرہ اور انکے اسی کردار کی وضاحت ہے۔ بعض احادیث سے بھی ان کے کردار پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلًا ایک موقع پر کچھ اعرابی رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے پوچھا «اَتُقَبْلُوْنَ صِبْیَانکُمْ»، ”کیا تم اپنے بچے کو بوسہ دیتے ہو؟“، صحابہ (رضي الله عنهم) نے عرض کیا ”ہاں“ انہوں نے کہا ”واللہ! ہم تو بوسہ نہیں دیتے“ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے سن کر فرمایا ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں سے رحم و شفقت کا جذبہ نکال دیا ہے تو میرا اس میں کیا اختیار ہے؟“۔ (صحیح بخاری کتاب الأدب، باب رحمة الولد وتقبیله ومعانقته۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب رحمته صلى الله عليه وسلم الصبیان والعیال) [2] اس کی وجہ یہ ہے کہ چوں کہ وہ شہر سے دور رہتے ہیں اور اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کی باتیں سننے کا اتفاق ان کو نہیں ہوتا۔