سورہ At-Tawbah — آیت 94
توبہ · 9:94 · 94/129
يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَـٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
YaAAtathiroona ilaykum itharajaAAtum ilayhim qul la taAAtathiroo lan nu'minalakum qad nabbaana Allahu min akhbarikumwasayara Allahu AAamalakum warasooluhu thummaturaddoona ila AAalimi alghaybi washshahadatifayunabbi-okum bima kuntum taAAmaloon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا
محمد جوناگڑھی
یہ لوگ تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے، اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری خبر دے چکا ہے اور آئنده بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیده اور ﻇاہر سب کا جاننے واﻻ ہے پھر وه تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ "بہانے نہ کرو، ہم تہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دیے ہیں اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو"
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
بہانے بنائیں گے وہ تمہارے پاس آکر جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے آپ ﷺ کہہ دیجیے (یا کہہ دیجیے گا) کہ بہانے مت بناؤ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے اللہ نے ہمیں پوری طرح مطلع کردیا ہے تمہاری خبروں سے اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے پھر تمہیں لوٹا دیا جائے گا اس (اللہ) کی طرف جو غائب و حاضر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے