سورہ At-Talaq — آیت 7
طلاق · 65:7 · 7/12
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِۦ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُۥ فَلْيُنفِقْ مِمَّآ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَآ ءَاتَىٰهَا ۚ سَيَجْعَلُ ٱللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
Liyunfiq thoo saAAatin min saAAatihiwaman qudira AAalayhi rizquhu falyunfiq mimma atahuAllahu la yukallifu Allahu nafsan illama ataha sayajAAalu AllahubaAAda AAusrin yusra
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا
محمد جوناگڑھی
کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق۔ اور جس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہے وہ خرچ کرے اس میں سے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔ اللہ کسی جان کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جو اس نے اسے دے رکھا ہے۔ عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی بھی پیدا کر دے گا۔