سورہ At-Talaq — آیت 6
طلاق · 65:6 · 6/12
أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا۟ عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِن كُنَّ أُو۟لَـٰتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا۟ عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا۟ بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ ۖ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُۥٓ أُخْرَىٰ
Askinoohunna min haythu sakantum minwujdikum wala tudarroohunna litudayyiqooAAalayhinna wa-in kunna olati hamlin faanfiqooAAalayhinna hatta yadaAAna hamlahunnafa-in ardaAAna lakum faatoohunna ojoorahunnawa'tamiroo baynakum bimaAAroofin wa-in taAAasartum fasaturdiAAulahu okhra
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچّہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچّے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچّے کے بارے میں) پسندیدہ طریق سے مواقفت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچّے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی
محمد جوناگڑھی
تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وه حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو اور باہم مناسب طور پر مشوره کر لیا کرو اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اُن کو (زمانہ عدّت میں) اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسّر ہو،اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچےکو) دُودھ پلائیں تو ان کی اُجرت انہیں دو، اور بھلے طریقےسے (اُجرت کا معاملہ) باہمی گفت وشنید سے طے کر لو۔ لیکن اگر تم نے (اُجرت طے کرنے میں) ایک دُوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دُودھ پلالے گی۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ان عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی حیثیت کے مطابق اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائو انہیں تنگ کرنے کے لیے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (تمہارے بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کا معاوضہ ادا کرو۔ اور آپس میں مشورہ کرلیا کرو بھلے طریقے سے۔ اور اگر تم ایک دوسرے سے تنگی محسوس کرو تو پھر کوئی اور عورت اس کے لیے دودھ پلائے گی۔