سورہ Ash-Shuraa — آیت 50

شورٰی · 42:50 · 50/53

أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَـٰثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌ قَدِيرٌ

Aw yuzawwijuhum thukrananwa-inathan wayajAAalu man yashao AAaqeeman innahuAAaleemun qadeer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

محمد جوناگڑھی

یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں مِلا جُلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یا وہ انہیں ملا کردیتا ہے بیٹے اور بیٹیاں اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یا انہیں جمع کردیتا ہے[1] بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے.

حواشی

[1] یعنی جس کو چاہتا ہے، مذکر اور مونث دونوں دیتا ہے۔ اس مقام پر اللہ نے لوگوں کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہ جن کو صرف بیٹے دیئے۔ دوسرے، وہ جن کو صرف بیٹیاں، تیسرے وہ جن کو بیٹے، بیٹیاں دونوں اور چوتھے، وہ جن کو بیٹا نہ بیٹی۔ لوگوں کے درمیان یہ فرق و تفاوت اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے، اس تفاوت الٰہی کو دنیا کی کوئی طاقت بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ یہ تقسیم اولاد کے اعتبار سے ہے۔ باپوں کے اعتبار سے بھی انسانوں کی چار قسمیں ہیں۔ 1۔ آدم (عليه السلام) کو صرف مٹی سے پیدا کیا، ان کا باپ ہے نہ ماں۔ 2۔ حضرت حوا کو آدم (عليه السلام) سے یعنی مرد سے پیدا کیا، ان کی ماں نہیں ہے۔ 3۔ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو صرف عورت کے بطن سے پیدا کیا، ان کا باپ نہیں ہے۔ 4۔ اور باقی تمام انسانوں کو مرد اور عورت کے ملاپ سے۔ ان کے باپ بھی ہیں اور مائیں بھی۔ فَسُبْحَانَ اللهِ الْعَلِيمِ الْقَدِيرِ(ابن کثیر)۔