سورہ Ash-Shuraa — آیت 5
شورٰی · 42:5 · 5/53
تَكَادُ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِن فَوْقِهِنَّ ۚ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَن فِى ٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
Takadu assamawatuyatafattarna min fawqihinna walmala-ikatuyusabbihoona bihamdi rabbihim wayastaghfiroonaliman fee al-ardi ala inna Allaha huwaalghafooru arraheem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
محمد جوناگڑھی
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
قریب ہے کہ آسمان اُوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں در گزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں۔ آگاہ رہو، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور زمین میں جو (اہل ایمان) ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ آگاہ ہو جائو ! یقینا اللہ ہی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں[1] اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں[2]۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے.[3]
حواشی
[1] اللہ کی عظمت وجلال کی وجہ سے۔ [2] یہ مضمون سورۂ مؤمن کی آیت 7 میں بھی بیان ہوا ہے۔ [3] اپنے دوستوں اور اہل طاعت کے لیے یا تمام ہی بندوں کے لیے، کیونکہ کفار اور نافرمانوں کی فوراً گرفت نہ کرنا بلکہ انہیں ایک وقت معین تک مہلت دینا، یہ بھی اسی کی رحمت ومغفرت ہی کی قسم سے ہے۔