سورہ Ash-Shu'ara — آیت 63

شعراٗ · 26:63 · 63/227

فَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْبَحْرَ ۖ فَٱنفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَٱلطَّوْدِ ٱلْعَظِيمِ

Faawhayna ila moosaani idrib biAAasaka albahra fanfalaqafakana kullu firqin kattawdi alAAatheem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

محمد جوناگڑھی

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ”ماراپنا عصا سمندر پر۔“ یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف کہ ضرب لگاؤ اپنے عصا کے ساتھ سمندر کو تو وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار[1] ، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا.[2]

حواشی

[1] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ رہنمائی اور نشاندہی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، جس سے دائیں طرف کا پانی دائیں اور بائیں طرف کا بائیں طرف رک گیا اور دونوں کے بیچ میں راستہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ راستے بن گئے تھے، واللہ اعلم۔ [2] فِرْقٍ : قطعہ بحرسمندر کا حصہ، طَوْدٌ ،پہاڑ یعنی پانی کا ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزے کا صدور ہوا تاکہ موسیٰ (عليه السلام) اور ان کی قوم فرعون سے نجات پالے، اس تائید الٰہی کے بغیر فرعون سے نجات ممکن نہیں تھی۔