سورہ As-Sajdah — آیت 9
سجدہ · 32:9 · 9/30
ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
Thumma sawwahu wanafakha feehi min roohihiwajaAAala lakumu assamAAa wal-absara wal-af-idataqaleelan ma tashkuroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی( طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو
محمد جوناگڑھی
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر اُس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی ، اور تم کو کان دیے ، آنکھیں دیں اور دل دیے ۔ تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر اس کی نوک پلک درست کی اور پھونکا اس میں اپنی روح میں سے اور اس نے بنائے تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بہت ہی کم ہے جو شکر تم لوگ کرتے ہو
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی[1] ، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے[2] (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو.[3]
حواشی
[1] یعنی اس بچے کی، ماں کے پیٹ میں نشوونما کرتے، اس کے اعضا بناتے، سنوارتے ہیں اور پھر اس میں روح پھونکتے ہیں۔ [2] یعنی یہ ساری چیزیں پیدا کیں تاکہ وہ اپنی تخلیق کی تکمیل کر دے، پس تم ہر سننے والی بات کو سن سکو، دیکھنے والی چیز کو دیکھ سکو اور ہر عقل وفہم میں آنے والی بات کو سمجھ سکو۔ [3] یعنی اتنے احسانات کے باوجود انسان اتنا ناشکرا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بہت ہی کم ادا کرتا ہے یا شکر کرنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں۔