سورہ As-Saf — آیت 6

صف · 61:6 · 6/14

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ

Wa-ith qala AAeesa ibnumaryama ya banee isra-eela innee rasoolu Allahiilaykum musaddiqan lima bayna yadayya mina attawratiwamubashshiran birasoolin ya'tee min baAAdee ismuhu ahmadufalamma jaahum bilbayyinati qaloohatha sihrun mubeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کے اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمدﷺ ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں۔ (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

محمد جوناگڑھی

اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم)، بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے واﻻ ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے واﻻ ہوں جنکا نام احمد ہے۔ پھر جب وه ان کے پاس کھلی دلیلیں ﻻئے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور یاد کرو عیسٰیؑ  ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ ”اے بنی اسرائیل ، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراة کی جو مجھ سے پہلے آئی  ہوئی موجود ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ مگر جب وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور یاد کرو جب عیسیٰ ؑ ابن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے اور بشارت دیتا ہوا ایک رسول کی جو میرے بعد آئیں گے ان کا نام احمد ﷺ ہوگا۔ پھر جب وہ (عیسیٰ ؑ آئے ان کے پاس واضح نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم)، بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے واﻻ ہوں[1] اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے واﻻ ہوں جنکا نام احمد ہے[2]۔ پھر جب وه ان کے پاس کھلی دلیلیں ﻻئے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے.[3]

حواشی

[1] حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا قصہ اس لیے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا بھی انکار کیا، اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جارہی ہے کہ یہ یہود آپ (صلى الله عليه وسلم) ہی کے ساتھ اس طرح نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیا علیہم السلام کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں، وہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے، کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تورات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اس لیے جس طرح تم موسیٰ وہارون اور داود وسلیمان علیہم السلام پر ایمان لائے ، مجھ پر بھی ایمان لاؤ، اس لیے کہ میں تورات کی تصدیق کر رہا ہوں نہ کہ اس کی تردید وتکذیب۔ [2] یہ حضرت عیسیٰ (عليه السلام) نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی خوش خبری سنائی۔ چنانچہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا : «أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبَشَارَةُ عِيسَى» (أيسر التفاسير) (میں اپنے باپ ابراہیم (عليه السلام) کی دعا اور عیسیٰ (عليه السلام) کی بشارت کا مصداق ہوں)۔ احمد، یہ فاعل سے اگر مبالغے کا صیغہ ہو تو معنی ہوں گے، دوسرے تمام لوگوں سے اللہ کی زیادہ حمد کرنے والا۔ اور اگر یہ مفعول سے ہو تو معنی ہوں گے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے جتنی تعریف آپ (صلى الله عليه وسلم) کی کی گئی، اتنی کسی کی بھی نہیں کی گئی۔ (فتح القدیر)۔ [3] یعنی حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے پیش کردہ معجزات کو جادو سے تعبیر کیا، جس طرح گزشتہ قومیں بھی اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کہتی رہی ہیں۔ بعض نے اس سے مراد نبی (صلى الله عليه وسلم) لیے ہیں اور قَالُوا کا فاعل کفار مکہ کو بنایا ہے۔