سورہ Ar-Rum — آیت 32
روم · 30:32 · 32/60
مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
Mina allatheena farraqoo deenahum wakanooshiyaAAan kullu hizbin bima ladayhim farihoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے
محمد جوناگڑھی
ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا دیا ہے او گروہوں میں بٹ گئے ہیں،ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(یعنی) ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنا دین ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ مختلف گروہ بن گئے ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروه گروه ہوگئے[1] ہر گروه اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی اصل دین کو چھوڑ کر یا اس میں من مانی تبدیلیاں کرکےالگ الگ فرقوں میں بٹ گئے، جیسے کوئی یہودی، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی وغیرہ ہوگیا۔ [2] یعنی ہر فرقہ اور گروہ سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دوسرے باطل پر، اور جو سہارے انہوں نے تلاش کر رکھے ہیں، جن کو وہ دلائل سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر خوش اور مطمئن ہیں، بدقسمتی سے ملت اسلامیہ کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ بھی مختلف فرقوں میں بٹ گئی اور ان کا بھی ہر فرقہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے، حالانکہ حق پر صرف ایک ہی گروہ ہے جس کی پہچان نبی (صلى الله عليه وسلم) نے بتلا دی ہے کہ میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہوگا۔