سورہ Ar-Ra'd — آیت 35

گرج · 13:35 · 35/43

۞ مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۖ أُكُلُهَا دَآئِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ ۖ وَّعُقْبَى ٱلْكَـٰفِرِينَ ٱلنَّارُ

Mathalu aljannati allatee wuAAidaalmuttaqoona tajree min tahtiha al-anharuokuluha da-imun wathilluhatilka AAuqba allatheena ittaqaw waAAuqba alkafireenaannar

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

محمد جوناگڑھی

اس جنت کی صفت، جس کا وعده پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کا میوه ہمیشگی واﻻ ہے اور اس کا سایہ بھی۔ یہ ہے انجام پرہیزگاروں کا، اور کافروں کا انجام کار دوزخ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

خدا ترس انسانوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ لازوال یہ انجام ہے متقی لوگوں کا اور منکرین حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

مثال اس جنت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں سے اس کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی اس کے پھل بھی ہمیشہ قائم رہنے والے ہوں گے اور اس کے سائے بھی یہ ہے انجام ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی اور کافروں کا انجام تو آگ ہے