سورہ An-Nur — آیت 62

نور · 24:62 · 62/64

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَإِذَا كَانُوا۟ مَعَهُۥ عَلَىٰٓ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا۟ حَتَّىٰ يَسْتَـْٔذِنُوهُ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسْتَـْٔذِنُونَكَ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ فَإِذَا ٱسْتَـْٔذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَٱسْتَغْفِرْ لَهُمُ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Innama almu'minoona allatheenaamanoo billahi warasoolihi wa-itha kanoomaAAahu AAala amrin jamiAAin lam yathhaboo hattayasta'thinoohu inna allatheena yasta'thinoonakaola-ika allatheena yu'minoona billahiwarasoolihi fa-itha ista'thanooka libaAAdisha'nihim fa'than liman shi'ta minhum wastaghfirlahumu Allaha inna Allaha ghafoorun raheem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں وه جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻچکے ہیں۔ پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگیں، بےشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسُولؐ کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسُولؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسُولؐ کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دُعائے مغفرت کیا کرو، اللہ یقیناً غفور و رحیم ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

مؤمن تو صرف وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور جب وہ کسی اجتماعی کام کے ضمن میں رسول ﷺ کے ساتھ ہوتے ہیں تو وہاں سے جاتے نہیں جب تک کہ ان ﷺ سے اجازت نہ لے لیں یقیناً جو لوگ آپ ﷺ سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر پھر جب وہ آپ ﷺ سے اجازت مانگیں اپنے کسی عذر کی وجہ سے تو آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دے دیجیے اور ان کے لیے اللہ سے استغفار کیجیے یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں وه جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻچکے ہیں[1] ۔ پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگیں، بےشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے.

حواشی

[1] یعنی جمعہ و عیدین کے اجتماعات میں یا داخلی وبیرونی مسئلے پر مشاورت کے لئے بلائے گئے اجلاس میں اہل ایمان تو حاضر ہوتے ہیں، اسی طرح اگر وہ شرکت سے معذور ہوتے ہیں تو اجازت طلب کرتے ہیں۔ جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوا کہ منافقین ایسے اجتماعات میں شرکت سے اور آپ (صلى الله عليه وسلم) سے اجازت مانگنے سے گریز کرتے ہیں۔