سورہ An-Nur — آیت 61

نور · 24:61 · 61/64

لَّيْسَ عَلَى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى ٱلْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى ٱلْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا۟ مِنۢ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ ءَابَآئِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَـٰتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَٰنِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَٰتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَـٰمِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّـٰتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَٰلِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَـٰلَـٰتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُۥٓ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا۟ جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ مُبَـٰرَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

Laysa AAala al-aAAma harajunwala AAala al-aAAraji harajun walaAAala almareedi harajun wala AAalaanfusikum an ta'kuloo min buyootikum aw buyooti aba-ikumaw buyooti ommahatikum aw buyooti ikhwanikum awbuyooti akhawatikum aw buyooti aAAmamikum awbuyooti AAammatikum aw buyooti akhwalikum awbuyooti khalatikum aw ma malaktum mafatihahuaw sadeeqikum laysa AAalaykum junahun an ta'kuloojameeAAan aw ashtatan fa-itha dakhaltum buyootanfasallimoo AAala anfusikum tahiyyatan min AAindiAllahi mubarakatan tayyibatan kathalikayubayyinu Allahu lakumu al-ayati laAAallakumtaAAqiloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

محمد جوناگڑھی

اندھے پر، لنگڑے پر، بیمار پر اور خود تم پر (مطلقاً) کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خاﻻؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ تم پر اس میں بھی کوئی گناه نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کرو دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزه ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده، یوں ہی اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا ، یا لنگڑا، یا مریض(کسی کے گھر سے کھا لے)اور نہ تمہارے اُوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاوٴ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے ، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاوٴں کے گھروں سے، یا اپنی پھُوپھیوں کے گھروں سے ، یا اپنے مامووٴں کے گھروں سے، یا اپنی خالاوٴں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کُنجیاں تمہاری سُپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاوٴ یا الگ الگ۔ البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دُعائے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی، بڑی با برکت اور پاکیزہ۔ اِس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ تم سمجھ بُوجھ سے کام لو گے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

کسی اندھے پر کوئی تنگی نہیں اور نہ کسی لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ کسی مریض پر کوئی تنگی ہے اور نہ خود تمہارے اپنے اوپر (اس ضمن میں) کوئی تنگی ہے کہ تم کھانا کھایا کرو اپنے گھروں سے یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا (ایسے گھروں سے) جن کی چابیاں تمارے پاس ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ تم سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ تو جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے (لوگوں) پر سلام بھیجا کرو یہ دعا ہے اللہ کی طرف سے مبارک بھی اور پاک بھی اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح کر رہا ہے تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اندھے پر، لنگڑے پر، بیمار پر اور خود تم پر (مطلقاً) کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے[1] یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خاﻻؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں[2] کے گھروں سے۔ تم پر اس میں بھی کوئی گناه نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کرو[3] دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزه ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شده، یوں ہی اللہ تعالیٰ کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو.[4]

حواشی

[1] اس کا ایک مطلب تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ جہاد میں جاتے ہوئے صحابہ کرام (رضي الله عنهم) ، آیت میں مذکور معذورین کو اپنے گھروں کی چابیاں دے جاتے اور انہیں گھر کی چیزیں بھی کھانے پینے کی اجازت دے دیتے۔ لیکن یہ معذور صحابہ (رضي الله عنهم) اس کے باوجود، مالکوں کی غیر موجودگی میں، وہاں سے کھانا پینا جائز نہ سمجھتے، اللہ نے فرمایا کہ مذکورہ افراد کے لئے اپنے اقارب کے گھروں سے یا جن گھروں کی چابیاں ان کے پاس ہیں، ان کے کھانے پینے میں کوئی حرج (گناہ) نہیں ہے۔ اور بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ تندرست صحابہ (رضي الله عنهم) ، معذور صحابہ (رضي الله عنهم) کے ساتھ بیٹھ کر کھانا، اس لئے ناپسند کرتے کہ وہ معذوری کی وجہ سے کم کھائیں گے اور یہ زیادہ کھا جائیں گے، اس طرح ان کے ساتھ کھانے میں ظلم کا ارتکاب نہ ہوجائے۔ اسی طرح خود معذور صحابہ (رضي الله عنهم) بھی، دیگر لوگوں کے ساتھ کھانا اس لئے پسند نہیں کرتے تھے کہ لوگ ان کے ساتھ کھانے میں کراہت محسوس نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کے لئے وضاحت فرما دی کہ اس میں کوئی گناہ والی بات نہیں ہے۔ [2] تاہم بعض علما نے صراحت کی ہے کہ اس سے وہ عام قسم کا کھانا مراد ہے جس کے کھا جانے سے کسی کو گرانی محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ ایسی عمدہ چیزیں جو مالکوں نے خصوصی طور پر الگ چھپا کر رکھی ہوں تاکہ کسی کی نظر ان پر نہ پڑے، اسی طرح ذخیرہ شدہ چیزیں، ان کا کھانا اور ان کو ا پنے استعمال میں لانا جائز نہیں۔ (ایسرالتفاسیر) اسی طرح یہاں بیٹوں کے گھر انسان کے اپنے ہی گھر ہیں، جس طرح حدیث میں آتا ہے أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ (ابن ماجه نمبر 2291۔ مسند أحمد 2 / 179 ،204، 214) تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ دوسری حدیث ہے ولد الرجل من كسبه (ابن ماجه نمبر 2137 ، أبو داود نمبر 3528، وصححه الألباني) آدمی کی اولاد، اس کی کمائی سے ہے۔ [3] اس میں ایک اور تنگی کا ازالہ فرما دیا گیا ہے۔ بعض لوگ اکیلے کھانا پسند نہیں کرتے تھے، اور کسی کو ساتھ بٹھا کر کھانا ضروری خیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اکھٹے کھا لو یا الگ الگ، دونوں طرح جائز ہیں، گناہ کسی میں نہیں۔ البتہ اکٹھے ہو کر کھانا زیادہ باعث برکت ہے، جیسا کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر)۔ [4] اس میں اپنے گھروں میں داخل ہونے کا ادب بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ داخل ہوتے وقت اہل خانہ کو سلام عرض کرو، آدمی کے لئے اپنی بیوی یا اپنے بچوں کو سلام کرنا بالعموم گراں گزرتا ہے۔ لیکن اہل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق ایسا کریں۔ آخر اپنے بیوی بچوں کو سلامتی کی دعا سے کیوں محروم رکھا جائے۔