سورہ An-Nur — آیت 51

نور · 24:51 · 51/64

إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

Innama kana qawla almu'mineenaitha duAAoo ila Allahi warasoolihi liyahkumabaynahum an yaqooloo samiAAna waataAAna waola-ikahumu almuflihoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

محمد جوناگڑھی

ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلا ئے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

حقیقی مؤمنین کو تو جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے مابین فیصلہ کریں تو ان کا قول بس یہی ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور ہم نے مانا اور وہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وه کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا[1] ۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں.

حواشی

[1] یہ اہل کفرونفاق کے مقابلے میں اہل ایمان کے کردار وعمل کا بیان ہے۔