سورہ An-Nur — آیت 37
نور · 24:37 · 37/64
رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَـٰرَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَإِقَامِ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءِ ٱلزَّكَوٰةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ ٱلْقُلُوبُ وَٱلْأَبْصَـٰرُ
Rijalun la tulheehim tijaratunwala bayAAun AAan thikri Allahi wa-iqamiassalati wa-eeta-i azzakatiyakhafoona yawman tataqallabu feehi alquloobu wal-absar
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خرید وفروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں
محمد جوناگڑھی
ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
وہ جواں مرد جنہیں غافل نہیں کرتی کسی قسم کی کوئی تجارت یا خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے (اس سب کچھ کے باوجود بھی) وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس دن کے تصور سے جس دن الٹ جائیں گے دل اور نگاہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ایسے لوگ[1] جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی.[2]
حواشی
[1] اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ اگرچہ عورتوں کا مسجدوں میں جا کر نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ نہایت سادہ لباس میں، بغیر خوشبو لگائے اور باپردہ جائیں، جس طرح کہ عہد رسالت مآب (صلى الله عليه وسلم) میں عورتیں مسجد نبوی میں نماز کے لئے حاضر ہوتی تھیں۔ تاہم ان کے لئے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔ حدیث میں بھی اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔ (أبو داود، كتاب الصلاة، باب التشديد في ذلك، مسند أحمد، 6 / 297 ، 301)۔ [2] یعنی شدت فزع اور ہولناکی کی وجہ سے۔ جس طرح دوسرے مقام پر ہے۔ «وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الآزِفَةِ إِذِ الْقُلُوبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِينَ» (سورة المؤمن: 18) ”ان کو قیامت والے دن سے ڈراؤ ، جس دن دل، گلوں کے پاس آجائیں گے، غم سے بھرے ہوئے“۔ ابتداءً دلوں کی یہ کیفیت سب کی ہی ہوگی، مومن کی بھی اور کافر کی بھی۔