سورہ An-Nur — آیت 35
نور · 24:35 · 35/64
۞ ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشْكَوٰةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ ٱلْمِصْبَاحُ فِى زُجَاجَةٍ ۖ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَـٰرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِىٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِى ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَـٰلَ لِلنَّاسِ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
Allahu nooru assamawatiwal-ardi mathalu noorihi kamishkatin feehamisbahun almisbahu fee zujajatinazzujajatu kaannaha kawkabun durriyyunyooqadu min shajaratin mubarakatin zaytoonatin lasharqiyyatin wala gharbiyyatin yakadu zaytuhayudee-o walaw lam tamsas-hu narun noorun AAalanoorin yahdee Allahu linoorihi man yashao wayadribuAllahu al-amthala linnasi wallahubikulli shay-in AAaleem
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
محمد جوناگڑھی
اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا، اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وه چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وه تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے، اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے، لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ آسمانوں اور زمین کا نُور ہے۔ (کائنات میں)اس کے نُور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہُوا ہو، چراغ ایک فانُوس میں ہو، فانُوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی ، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اِس طرح)روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں )۔ اللہ اپنے نُور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے ، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے ، وہ ہر چیز سے خُوب واقف ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق اس (طاق) میں ایک روشن چراغ ہے وہ چراغ شیشے (کے فانوس) میں ہے اور وہ شیشہ ایک چمکدار ستارے کی مانند ہے وہ (چراغ) جلایا جاتا ہے زیتون کے ایک مبارک درخت سے جو نہ شرقی ہے اور نہ غربیقریب ہے کہ اس کا روغن (خود بخود) روشن ہوجائے چاہے اسے آگ نے ابھی چھوا بھی نہ ہو روشنی پر روشنی اللہ ہدایت دیتا ہے اپنے نور کی جس کو چاہتا ہے اور اللہ یہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں (کی راہنمائی) کے لیے جبکہ اللہ تو ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے