سورہ An-Nisa — آیت 65
عورت · 4:65 · 65/176
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا۟ تَسْلِيمًا
Fala warabbika la yu'minoona hattayuhakkimooka feema shajara baynahum thumma layajidoo fee anfusihim harajan mimma qadaytawayusallimoo tasleema
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے
محمد جوناگڑھی
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
نہیں، اے محمد ؐ !تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اِختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسُوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پس نہیں آپ کے رب کی قسم ! یہ ہرگز مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ آپ کو حکم نہ مانیں ان تمام معاملات میں جو ان کے مابین پیدا ہوجائیں پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور سرتسلیم خم کریں جیسے کہ سرتسلیم خم کرنے کا حق ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔[1]
حواشی
[1] اس آیت کی شان نزول میں ایک یہودی اور مسلمان کا واقعہ عموماً بیان کیا جاتا ہے جوبارگاہ رسالت سے فیصلے کے باوجود حضرت عمر (رضي الله عنه) سے فیصلہ کروانے گیا جس پر حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اس مسلمان کا سر قلم کر دیا۔ لیکن سنداً یہ واقعہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ ابن کثیر نے بھی وضاحت کی ہے۔ صحیح واقعہ ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب ہے کہ حضرت زبیر (رضی اللہ عنہ) کا جو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے پھوپھی زاد تھے۔ اور ایک آدمی کا کھیت کو سیراب کرنے والے (نالے) کے پانی پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ نبی (صلى الله عليه وسلم) تک پہنچا آپ (صلى الله عليه وسلم) نے صورت حال کا جائزہ لے کر جو فیصلہ دیا تو وہ اتفاق سے حضرت زبیر (رضي الله عنه) کے حق میں تھا، جس پر دوسرے آدمی نے کہا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا پھوپھی زاد ہے، اس پر یہ ایت نازل ہوئی (صحيح بخاري تفسير سورة النساء) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کی کسی بات یا فیصلے سے اختلاف تو کجا، دل میں انقباض بھی محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے۔ یہ آیت بھی منکرین حدیث کے لئے تو ہے ہی، دیگر افراد کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے جو قول امام کے مقابلے میں حدیثِ صحیح سے انقباض ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ یا تو کھلے لفظوں میں اس ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یا اس کی دور ازکار تاویل کرکے یا ثقہ راویوں کو ضعیف باور کرا کے مسترد کرنے کی مذموم سعی کرتے ہیں۔