سورہ An-Nisa — آیت 48
عورت · 4:48 · 48/176
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفْتَرَىٰٓ إِثْمًا عَظِيمًا
Inna Allaha la yaghfiru anyushraka bihi wayaghfiru ma doona thalika limanyashao waman yushrik billahi faqadi iftaraithman AAatheema
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا
محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اِس کے ماسوا دُوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جُھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یقیناً اللہ اس بات کو ہرگز نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اس سے کم تر جو کچھ ہے وہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس نے تو بہت بڑے گناہ کا افترا کیا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے[1] اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا۔[2]
حواشی
[1] یعنی ایسے گناہ جن سے مومن توبہ کئے بغیر ہی مر جائیں، اللہ تعالیٰ اگر کسی کے لئے چاہے گا، تو بغیر کسی قسم کی سزا دیئے معاف فرما دے گا اور بہت سوں کو سزا کے بعد اور بہت سوں کو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شفاعت پر معاف فرما دے گا۔ لیکن شرک کسی صورت میں معاف نہیں ہوگا کیونکہ مشرک پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔ [2] دوسرے مقام پر فرمایا إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (سورۃ لقمان) شرک ظلم عظیم ہے حدیث میں اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ”أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللهِ“۔