سورہ An-Nisa — آیت 29
عورت · 4:29 · 29/176
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَـٰرَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
Ya ayyuha allatheena amanoola ta'kuloo amwalakum baynakum bilbatiliilla an takoona tijaratan AAan taradinminkum wala taqtuloo anfusakum inna Allaha kanabikum raheema
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے
محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاوٴ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے اہل ایمان اپنے مال آپس میں باطل طریقے پر ہڑپ نہ کرو سوائے اس کے کہ تجارت ہو تمہاری باہمی رضامندی سے اور نہ اپنے آپ کو قتل کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ[1] ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے ہو خرید وفروخت[2]، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو[3] یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔
حواشی
[1] بِالْبَاطِلِ میں دھوکہ، فریب، جعل سازی، ملاوٹ کے علاوہ وہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے،جیسے قمار، ربا، وغیرہ۔ اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی باطل میں شامل ہے۔ مثلاً بلا ضرورت فوٹو گرافی، ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، ویڈیو فلمیں اور فحش کیسٹیں وغیرہ۔ ان کا بنانا، بیچنا، مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔ [2] اس کےلئے بھی شرط یہ ہے کہ یہ لین دین حلال اشیا کا ہو، حرام اشیاء کا کاروبار باہمی رضامندی کے باوجود ناجائز ہی رہے گا۔ علاوہ ازیں رضامندی میں خیارمجلس کا مسئلہ بھی آجاتا ہے یعنی جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں سودا فسخ کرنے کا اختیار رہے گا جیسا کہ حدیث میں ہے ”الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا“ (صحيح بخاري- ومسلم كتاب البيوع) دونوں باہم سودا کرنے والوں کو، جب تک جدا نہ ہوں، اختیار ہے۔ [3] اس سے مراد خودکشی بھی ہو سکتی ہے جو کیبرہ گناہ ہے اور ارتکاب معصیت بھی جو ہلاکت کا باعث ہے اور کسی مسلمان کو قتل کرنا بھی کیونکہ مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اس لئے اس کا قتل بھی ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو قتل کیا۔