سورہ An-Nisa — آیت 152

عورت · 4:152 · 152/176

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَلَمْ يُفَرِّقُوا۟ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُو۟لَـٰٓئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

Wallatheena amanoo billahiwarusulihi walam yufarriqoo bayna ahadin minhum ola-ikasawfa yu'teehim ojoorahum wakana Allahu ghafooranraheema

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے، یہ ہیں جنہیں اللہ ان کو پورا ﺛواب دے گا اور اللہ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں، اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں، ان کو ہم ضرور ان کے اجر عطا کریں گے ، اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں پر اور انہوں نے ان میں سے کسی کے مابین کوئی تفریق نہیں کی یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے، یہ ہیں جنہیں اللہ ان کو پورا ﺛواب دے گا[1] اور اللہ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے۔

حواشی

[1] یہ ایمانداروں کا شیوہ بتلایا کہ وہ سب انبیاء (عليهم السلام) پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس طرح مسلمان ہیں کہ وہ کسی بھی نبی کا انکار نہیں کرتے۔ اس آیت سے بھی ”وحدت ادیان“ کی نفی ہوتی ہے جس کے قائلین کے نزدیک رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ اور وہ ان غیر مسلموں کو بھی نجات یافتہ سمجھتے ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق ایمان بااللہ رکھتے ہیں۔ لیکن قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ ایمان باللہ کے ساتھ رسالت محمدیہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اگر اس آخری رسالت کا انکار ہوگا تو اس انکار کےساتھ ایمان باللہ غیر معتبر اور نامقبول ہے۔ (مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت نمبر62 کا حاشیہ)