سورہ An-Nisa — آیت 137
عورت · 4:137 · 137/176
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ ثُمَّ ٱزْدَادُوا۟ كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًۢا
Inna allatheena amanoo thummakafaroo thumma amanoo thumma kafaroo thumma izdadookufran lam yakuni Allahu liyaghfira lahum walaliyahdiyahum sabeela
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا
محمد جوناگڑھی
جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان ﻻکر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے، اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راه ہدایت سمجھائے گا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
رہے و ہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھرایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے، تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی ان کو راہ راست دکھائے گا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے تو اللہ نہ ان کی مغفرت کرنے والا ہے اور نہ وہ انہیں راہ راست دکھائے گا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان ﻻکر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے، اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راه ہدایت سمجھائے گا۔[1]
حواشی
[1] بعض مفسرین نے اس سے مراد یہود لئے ہیں۔ یہود حضرت موسیٰ (عليه السلام) پر ایمان لائے، لیکن حضرت عزیر (عليه السلام) کا انکار کیا، پھر حضرت عزیر (عليه السلام) پر ایمان لائے تو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کا انکار کیا۔ پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ حضرت محمد (صلى الله عليه وسلم) کی نبوت کا بھی انکار کیا اور بعض نے اس سے مراد منافقین لئے ہیں، چونکہ مقصد ان کا مسلمانوں کو نقصان پہچانا تھا، اس لئے وہ بار بار اپنی مسلمانی کا ڈھونگ رچاتے تھے بالآخر کفر وضلالت میں اتنے بڑھ گئے کہ ان کی ہدایت کی امید منقطع ہوگئی۔