سورہ An-Nisa — آیت 134

عورت · 4:134 · 134/176

مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا فَعِندَ ٱللَّهِ ثَوَابُ ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًا

Man kana yureedu thawaba addunyafaAAinda Allahi thawabu addunya wal-akhiratiwakana Allahu sameeAAan baseera

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جو شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لئے اجر (موجود) ہیں۔ اور خدا سنتا دیکھتا ہے

محمد جوناگڑھی

جو شخص دنیا کا ﺛواب چاہتا ہو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا اور آخرت (دونوں) کا ﺛواب موجود ہے اور اللہ تعالیٰ بہت سننے واﻻ اور خوب دیکھنے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جو شخص محض ثوابِ دُنیا کو طالب ہو اسے معلوم ہو نا چاہیے کہ اللہ کےپاس ثوابِ دُنیا بھی ہے اور ثوابِ آخرت بھی ، اور اللہ سمیع و بصیر ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

جو کوئی بھی دنیا کا ثواب چاہتا ہے تو اللہ کے پاس ہے ثواب دنیا کا بھی اور آخرت کا بھی اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جو شخص دنیا کا ﺛواب چاہتا ہو تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا اور آخرت (دونوں) کا ﺛواب موجود ہے[1] اور اللہ تعالیٰ بہت سننے واﻻ اور خوب دیکھنے واﻻ ہے۔

حواشی

[1] جیسے کوئی شخص جہاد صرف مال غنیمت کے حصول کے لئے کرے تو کتنی نادانی کی بات ہے۔ جب اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت دونوں کا ثواب عطا فرمانے پر قادر ہے تو پھر اس سے ایک ہی چیز کیوں طلب کی جائے؟ انسان دونوں ہی کا طالب کیوں نہ بنے؟