سورہ An-Nisa — آیت 1

عورت · 4:1 · 1/176

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُوا۟ رَبَّكُمُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَٰحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَآءً ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

Ya ayyuha annasuittaqoo rabbakumu allathee khalaqakum min nafsin wahidatinwakhalaqa minha zawjaha wabaththa minhumarijalan katheeran wanisaan wattaqoo Allahaallathee tasaaloona bihi wal-arhamainna Allaha kana AAalaykum raqeeb

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے

محمد جوناگڑھی

اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دُنیا میں پھیلا دیے۔ اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دُوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلّقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اے لوگو اپنے اس رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے پھیلا دیے (زمین میں) کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں اور تقویٰ اختیار کرو اس اللہ کا جس کا تم ایک دوسرے کو واسطہ دیتے ہو اور رحمی رشتوں کا لحاظ رکھو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا[1] اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو[2] بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔

حواشی

[1] ایک جان سے مراد ابو البشر حضرت آدم (عليه السلام) ہیں اور«خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا»میں مِنْهَا سے وہی جان یعنی آدم (عليه السلام) مراد ہیں یعنی آدم (عليه السلام) سے ان کی زوج (بیوی) حضرت حوا کو پیدا کیا۔ حضرت حوا حضرت آدم (عليه السلام) سے کس طرح پیدا ہوئیں اس میں اختلاف ہے حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) سے قول مروی ہے کہ حضرت حوا مرد (یعنی آدم عليه السلام) سے پیدا ہوئیں۔ یعنی ان کی بائیں پسلی سے۔ ایک حدیث میں کہا گیا ہے۔ «إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ أَعْوَجَ وِإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلاهُ» (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، صحیح مسلم، کتاب الرضاع) ”کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ، اس کا بالائی حصہ ہے۔ اگر تو اسے سیدھا کرنا جاہے تو توڑ بیٹھے گا اور اگر تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو کجی کے ساتھ ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے“۔ بعض علماء نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) سے منقول رائے کی تائید کی ہے۔ قرآن کے الفاظ «خَلَقَ مِنْهَا» سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے حضرت حوا کی تخلیق اسی نفس واحدہ سے ہوئی جسے آدم کہا جاتا ہے۔ [2] وَالأَرْحَامَ کا عطف اللہ پر ہے یعنی رحموں (رشتوں ناطوں) کو توڑنے سے بھی بچو۔ أَرْحَامٌ، رَحِمٌ کی جمع ہے۔ مراد رشتے داریاں ہیں جو رحم مادر کی بنیاد پر ہی قائم ہوتی ہیں۔ اس سے محرم اور غیر محرم دونوں رشتے مراد ہیں رشتوں ناطوں کا توڑنا سخت کبیرہ گناہ ہے جسے قطع رحمی کہتے ہیں۔ احادیث میں قرابت داریوں کو ہر صورت میں قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی بڑی تاکید اورفضیلت بیان کی گئی ہے جسے صلہ رحمی کہاجاتا ہے۔