سورہ An-Naml — آیت 66
چیونٹی · 27:66 · 66/93
بَلِ ٱدَّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَا ۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ
Bali iddaraka AAilmuhum fee al-akhiratibal hum fee shakkin minha bal hum minha AAamoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں
محمد جوناگڑھی
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہوچکا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
بلکہ تھک ہار کر رہ گیا ہے ان کا علم آخرت کے بارے میں بلکہ اس کے بارے میں وہ شک میں مبتلا ہیں بلکہ اس کی طرف سے وہ اندھے ہوچکے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہوچکا ہے[1] ، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں.[2]
حواشی
[1] یعنی ان کا علم آخرت کے وقوع کا وقت جاننے سے عاجز ہے۔ یا ان کا علم آخرت کے بارے میں برابر ہے جیسے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت جبرائیل (عليه السلام) کے استفسار پر فرمایا تھا کہ قیامت کے بارے میں مسئول عنہا (نبی اکرم صلى الله عليه وسلم) بھی سائل (حضرت جبرائیل عليه السلام) سے زیادہ علم نہیں رکھتے یا یہ معنی ہیں کہ ان کا علم مکمل ہوگیا، اس لیے کہ انہوں نے قیامت کے بارے میں کیے گئے وعدوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، گویہ علم اب ان کے لیے نافع نہیں ہے کیونکہ دنیا میں وہ اسے جھٹلاتے رہے تھے جیسے فرمایا: «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ» (سورة مريم: 38) [2] یعنی دنیا میں آخرت کے بارے میں شک میں ہیں بلکہ اندھے ہیں کہ اختلال عقل وبصیرت کی وجہ سے آخرت پر یقین سے محروم ہیں۔