سورہ An-Nahl — آیت 40

شہد کی مکھی · 16:40 · 40/128

إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَىْءٍ إِذَآ أَرَدْنَـٰهُ أَن نَّقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ

Innama qawluna lishay-inithaaradnahu an naqoola lahu kun fayakoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

محمد جوناگڑھی

ہم جب کسی چیز کا اراده کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہوجا، پس وه ہوجاتی ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

(رہا اس کا امکان ، تو)ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا ہوتا کہ اسے حکم دیں”ہو جا“ اور بس وہ ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

ہمارا قول تو کسی چیز کے بارے میں بس یہ ہوتا ہے جب ہم اس کا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم فرماتے ہیں اسے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہم جب کسی چیز کا اراده کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہوجا، پس وه ہوجاتی ہے.[1]

حواشی

[1] یعنی لوگوں کے نزدیک قیامت کا ہونا، کتنا بھی مشکل یا ناممکن ہو، مگر اللہ کے لئے تو کوئی مشکل نہیں اسے زمین اور آسمان ڈھانے کے لئے مزدوروں، انجینئروں اور مستریوں اور دیگر آلات ووسائل کی ضرورت نہیں۔ اسے تو صرف ”کُنْ“ کہنا ہے اس کے لفظ کن سے پلک جھپکتے میں قیامت برپا ہو جائے گی۔ «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» (النحل:77) ”قیامت کا معاملہ پلک جھپکتے یا اس سے بھی کم مدت میں واقع ہو جائے گا“۔