سورہ An-Nahl — آیت 4
شہد کی مکھی · 16:4 · 4/128
خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ
Khalaqa al-insana min nutfatinfa-itha huwa khaseemun mubeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا
محمد جوناگڑھی
اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وه صریح جھگڑالو بن بیٹھا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بُوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالُو ہستی بن گیا۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اس نے پیدا کیا انسان کو گندے پانی کی بوند سے پھر یکایک وہ بن گیا کھلا جھگڑالو
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وه صریح جھگڑالو بن بیٹھا.[1]
حواشی
[1] یعنی ایک جامد چیز سے جو ایک جاندار کے اندر سے نکلتی ہے۔ جسے منی کہا جاتا ہے۔ اسے مختلف اطوار سے گزار کر ایک مکمل صورت دی جاتی ہے، پھر اس میں اللہ تعالٰی روح پھونکتا ہے اور ماں کے پیٹ سے نکال کر اس دنیا میں لاتا ہے جس میں وہ زندگی گزارتا ہے لیکن جب اسے شعور آتا ہے تو اسی رب کے معاملے میں جھگڑتا، اس کا انکار کرتا یا اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے۔