سورہ An-Naba — آیت 38
خبر · 78:38 · 38/40
يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا
Yawma yaqoomu arroohu walmala-ikatusaffan la yatakallamoona illa man athinalahu arrahmanu waqala sawaba
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی بول نہ سکے گا مگر جس کو (خدائے رحمٰن) اجازت بخشے اور اس نے بات بھی درست کہی ہو
محمد جوناگڑھی
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جس روز رُوح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جس دن کھڑے ہوں گے جبرائیل اور تمام فرشتے صفیں باندھے۔ وہ کوئی بات نہ کرسکیں گے سوائے اس کے جسے رحمن کی طرف سے اجازت مل جائے اور وہ بات بھی درست کرے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کر کھڑے ہوں گے[1] تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے اور وه ٹھیک بات زبان سے نکالے.[2]
حواشی
[1] یہاں جبرائیل (عليه السلام) سمیت رُوحٌ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، امام ابن کثیر نے بنو آدم ( انسان ) کو اشبہ ( قرین قیاس ) قرار دیا ہے۔ [2] یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گی حق وصواب ہی ہوگی، یا یہ مفہوم ہے کہ، اجازت صرف اسی کےبارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو۔ یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔