سورہ Ali 'Imran — آیت 68
عمران کا خاندان · 3:68 · 68/200
إِنَّ أَوْلَى ٱلنَّاسِ بِإِبْرَٰهِيمَ لَلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا ٱلنَّبِىُّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ وَلِىُّ ٱلْمُؤْمِنِينَ
Inna awla annasibi-ibraheema lallatheena ittabaAAoohu wahathaannabiyyu wallatheena amanoo wallahuwaliyyu almu'mineen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے
محمد جوناگڑھی
سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان ﻻئے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے،۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ابراہیمؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اِس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں اللہ صرف اُنہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یقیناً ابراہیم ؑ سے سب سے زیادہ قربت رکھنے والے لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور اب یہ نبی (حضرت محمد ﷺ اور جو ان پر ایمان لائے (اس نسبت کے زیادہ حقدار ہیں) اور اللہ ان مؤمنوں کا ساتھی ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان ﻻئے[1] ، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے،۔
حواشی
[1] اسی لئے قرآن کریم میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو ملت ابراہیمی کا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ «أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا» ( النحل: 123) علاوہ ازیں حدیث میں ہے رسول (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيّ وُلاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِـيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رِبِّي عَزّ وَجَلّ“ (ہر نبی کے نبیوں میں سے کچھ دوست ہوتے ہیں، میرے ولی (دوست) ان میں سے میرے باپ اور میرے رب کے خلیل (ابراہیم عليه السلام ہیں)۔ پھر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہی آیت تلاوت فرمائی (ترمذی بحوالہ ابن کثیر )