سورہ Ali 'Imran — آیت 169

عمران کا خاندان · 3:169 · 169/200

وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمْوَٰتًۢا ۚ بَلْ أَحْيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

Wala tahsabanna allatheenaqutiloo fee sabeeli Allahi amwatan bal ahyaonAAinda rabbihim yurzaqoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

محمد جوناگڑھی

جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں،

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ہرگز نہ سمجھنا ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں.[1]

حواشی

[1] شہدا کی یہ زندگی حقیقی ہے یا مجازی، یقیناً حقیقی ہے لیکن اس کا شعور اہل دنیا کو نہیں جیسا کہ قرآن نے وضاحت کر دی ہے۔ ملاحظہ ہو (سورۂ بقرۃ آیت نمبر 154) پھر اس زندگی کا مطلب کیا ہے ؟ بعض کہتے ہیں قبروں میں ان کی روحیں لوٹا دی جاتی ہیں اور وہاں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جنت کے پھلوں کی خوشبوئیں انہیں آتی ہیں۔ جس سے ان کے مشام جان معطر رہتے ہیں۔ لیکن حدیث سے ایک تیسری شکل معلوم ہوتی ہے اس لئے وہی صحیح ہے، وہ یہ کہ اس کی روحیں سبز پرندوں کے جوف یا سینوں میں داخل کر دی جاتی ہیں اور وہ جنت میں کھاتی پھرتی اور اس کی نعمتوں سے متمتع ہوتی ہیں (فتح القدیر بحوالہ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ)