سورہ Ali 'Imran — آیت 135

عمران کا خاندان · 3:135 · 135/200

وَٱلَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا۟ فَـٰحِشَةً أَوْ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا۟ ٱللَّهَ فَٱسْتَغْفَرُوا۟ لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ ٱلذُّنُوبَ إِلَّا ٱللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلُوا۟ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

Wallatheena ithafaAAaloo fahishatan aw thalamoo anfusahum thakarooAllaha fastaghfaroo lithunoobihim wamanyaghfiru aththunooba illa Allahuwalam yusirroo AAala ma faAAaloo wahumyaAAlamoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

محمد جوناگڑھی

جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، فیالواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آ جاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو او ر وہ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی ان سے کسی بےحیائی کا ارتکاب ہوجائے یا اپنے اوپر کوئی اور ظلم کر بیٹھیں تو فوراً انہیں اللہ یاد آجاتا ہے پس وہ اس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور کون ہے جو معاف کرسکے گناہوں کو سوائے اللہ کے ؟ اور وہ اپنے اس غلط فعل پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں[1] ، فیالواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے.

حواشی

[1] یعنی جب ان سے بہ تقاضائے بشریت کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو فوراً توبہ واستغفار کا اہتمام کرتے ہیں۔