سورہ Ali 'Imran — آیت 101
عمران کا خاندان · 3:101 · 101/200
وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتُ ٱللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُۥ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِٱللَّهِ فَقَدْ هُدِىَ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ
Wakayfa takfuroona waantum tutlaAAalaykum ayatu Allahi wafeekum rasooluhuwaman yaAAtasim billahi faqad hudiya ilasiratin mustaqeem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا
محمد جوناگڑھی
﴿گو یہ ظاہر ہے کہ﴾ تم کیسے کفر کر سکتے ہو؟ باوجود یہ کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ موجود ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ (کے دین) کو مضبوط تھام لے تو بلاشبہ اسے راه راست دکھادی گئی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تمہارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسولؐ موجود ہے؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (ذرا سوچو تو سہی) یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم پھر کفر کرنے لگو جبکہ تمہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے اندر اس کا رسول موجود ہے اور جو کوئی اللہ سے چمٹ جائے اس کو تو ہدایت ہوگئی صراط مستقیم کی طرف
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
﴿گو یہ ظاہر ہے کہ﴾ تم کیسے کفر کر سکتے ہو؟ باوجود یہ کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ موجود ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ (کے دین) کو مضبوط تھام لے[1] تو بلاشبہ اسے راه راست دکھادی گئی.
حواشی
[1] اعْتِصام باللہ کے معنی ہیں۔ اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لینا اور اس کی اطاعت میں کوتاہی نہ کرنا۔