سورہ Al-Qasas — آیت 64

قصے · 28:64 · 64/88

وَقِيلَ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُمْ وَرَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۚ لَوْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ يَهْتَدُونَ

Waqeela odAAoo shurakaakumfadaAAawhum falam yastajeeboo lahum waraawoo alAAathabalaw annahum kanoo yahtadoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے

محمد جوناگڑھی

کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ، وه بلائیں گے لیکن انہیں وه جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے، کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو۔ یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور ان سے کہا جائے گا کہ اب تم پکارو اپنے شریکوں کو تو وہ انہیں پکاریں گے لیکن وہ انہیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور وہ دیکھ لیں گے عذاب کو کاش وہ ہدایت پائے ہوئے ہوتے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ[1] ، وه بلائیں گے لیکن انہیں وه جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے[2]، کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے.[3]

حواشی

[1] یعنی ان سے مدد طلب کرو، جس طرح دنیا میں کرتے تھے۔ کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ پس وہ پکاریں گے۔ لیکن وہاں کس کو یہ جرات ہوگی کہ جو یہ کہے کہ ہاں ہم تمہاری مدد کرتے ہیں؟ [2] یعنی یقین کرلیں گے کہ ہم سب جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ [3] یعنی عذاب دیکھ لینے کے بعد آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ہدایت کا راستہ اپنا لیتے تو آج وہ اس حشر سے بچ جاتے۔ سورۃ الکہف: 53-52 میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔