سورہ Al-Qasas — آیت 63
قصے · 28:63 · 63/88
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلْقَوْلُ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغْوَيْنَآ أَغْوَيْنَـٰهُمْ كَمَا غَوَيْنَا ۖ تَبَرَّأْنَآ إِلَيْكَ ۖ مَا كَانُوٓا۟ إِيَّانَا يَعْبُدُونَ
Qala allatheena haqqaAAalayhimu alqawlu rabbana haola-i allatheenaaghwayna aghwaynahum kama ghawaynatabarra'na ilayka ma kanoo iyyanayaAAbudoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے
محمد جوناگڑھی
جن پر بات آچکی وه جواب دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وه ہیں جنہیں ہم نے بہکا رکھا تھا، ہم نے انہیں اسی طرح بہکایا جس طرح ہم بہکے تھے، ہم تیری سرکار میں اپنی دست برداری کرتے ہیں، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہ قول جن پر چسپاں ہوگا وہ کہیں گے”اے ہمارے ربّ ، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنےبراءت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو کہیں گے وہ لوگ جو (عذاب کے) فیصلے کے مستحق ہوچکے ہوں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا (وہ جواب میں کہیں گے) ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے تھے ہم تیرے سامنے (ان سے) اظہار براءت کرتے ہیں یہ ہماری پرستش تو نہیں کرتے تھے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جن پر بات آچکی وه جواب دیں گے[1] کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وه ہیں جنہیں ہم نے بہکا رکھا تھا[2]، ہم نے انہیں اسی طرح بہکایا جس طرح ہم بہکے تھے[3]، ہم تیری سرکار میں اپنی دست برداری کرتے ہیں[4]، یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے.[5]
حواشی
[1] یعنی جو عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا چکے ہوں گے، مثلاً سرکش شیاطین اور داعیان کفروشرک وغیرہ، وہ کہیں گے۔ [2] یہ ان جاہل عوام کی طرف اشارہ ہے جن کو داعیان کفر وضلال نے اور شیاطین نے گمراہ کیا تھا۔ [3] یعنی ہم تو تھے ہی گمراہ لیکن ان کو بھی اپنے ساتھ گمراہ کیے رکھا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نےان پر کوئی جبر نہیں کیا تھا، بس ہمارے ادنیٰ سے اشارے پر ہماری طرح ہی انھوں نے بھی گمراہی اختیار کر لی۔ [4] یعنی ہم ان سے بیزار اور الگ ہیں، ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں یہ تابع اور متبوع، چیلے اور گرو ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ [5] بلکہ درحقیقت اپنی ہی خواہشات کی پیروی کرتے تھے۔ یعنی وہ معبودین ، جن کی لوگ دنیا میں عبادت کرتے تھے، اس بات سے ہی انکار کر دیں گے کہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلا ً سورة الأنعام: 49 سورة مريم: 82،81 ، سورة الأحقاف: 5-6، سورة العنكبوت:25 سورة القمر: 167-166 وغيرها من الآيات۔