سورہ Al-Qasas — آیت 56

قصے · 28:56 · 56/88

إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

Innaka la tahdee man ahbabtawalakinna Allaha yahdee man yashao wahuwaaAAlamu bilmuhtadeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے

محمد جوناگڑھی

آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے نبیؐ ، تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خُوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ !) آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے.[1]

حواشی

[1] یہ آیت اس وقت نازل ہوئی، جب نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ہمدرد اور غم گسار چچا جناب ابو طالب کا انتقال ہونے لگا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے کوشش فرمائی کہ چچا اپنی زبان سے ایک مرتبہ لا إِلَهَ إِلا اللهُ کہہ دیں تاکہ قیامت والے دن میں اللہ سے ان کی مغفرت کی سفارش کرسکوں۔ لیکن وہاں دوسرے روسائے قریش کی موجودگی کی وجہ سے ابو طالب قبول ایمان کی سعادت سے محروم رہے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہوگیا۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) کو اس بات کا بڑا قلق اور صدمہ تھا۔ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر نبی (صلى الله عليه وسلم) پر واضح کیا کہ آپ کا کام صرف تبلیغ ودعوت اور رہنمائی ہے۔ لیکن ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ ہمارا کام ہے، ہدایت اسے ہی ملے گی جسے ہم ہدایت سے نوازنا چاہیں نہ کہ اسے جسے آپ ہدایت پر دیکھنا پسند کریں۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة القصص- مسلم، كتاب الإيمان، باب أول الإيمان- قول لا إله إلا الله)