سورہ Al-Qasas — آیت 53

قصے · 28:53 · 53/88

وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِۦ مُسْلِمِينَ

Wa-itha yutla AAalayhim qalooamanna bihi innahu alhaqqu min rabbinainna kunna min qablihi muslimeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جب (قرآن) اُن کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے حکمبردار ہیں

محمد جوناگڑھی

اور جب اس کی آیتیں ان کے پاس پڑھی جاتی ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ”ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یقیناً یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلم تھے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور جب اس کی آیتیں ان کے پاس پڑھی جاتی ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں.[1]

حواشی

[1] یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جسے قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور میں اللہ کے پیغمبروں نے جس دین کی دعوت دی، وہ اسلام ہی تھا او ر ان نبیوں کی دعوت پر ایمان لانے والے مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ یہود یا نصاریٰ وغیرہ کی اصطلاحیں لوگوں کی اپنی خود ساختہ ہیں جو بعد میں ایجاد ہوئیں۔ اسی اعتبار سے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) پر ایمان لانے والے اہل کتاب (یہود یا عیسائیوں) نے کہا کہ ہم تو پہلے سے ہی مسلمان چلے آرہے ہیں۔ یعنی سابقہ انبیا کے پیروکار اور ان پر ایمان رکھنے والے ہیں۔