سورہ Al-Qasas — آیت 46

قصے · 28:46 · 46/88

وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَـٰكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

Wama kunta bijanibi attooriith nadayna walakin rahmatanmin rabbika litunthira qawman ma atahum minnatheerin min qablika laAAallahum yatathakkaroon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

محمد جوناگڑھی

اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ)پکارا تھا، مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے(کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں) تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کرو جن کے پاس ان سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہوش میں آئیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور نہ آپ ﷺ (اس وقت) طور کے پاس موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ ؑ کو) پکارا تھا بلکہ یہ سب رحمت ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ﷺ اس قوم کو خبردار کریں جس کی طرف آپ ﷺ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی[1] بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے[2]، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا[3]، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں.

حواشی

[1] یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ (عليه السلام) کے اس واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔ [2] یعنی آپ کا یہ علم، مشاہدہ و رویت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔ [3] اس سے مراد، اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف ہی ہوتی رہی۔ بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پہلے نبی تھے اور سلسلۂ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیا کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لیے کفروشرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا ہے۔