سورہ Al-Qasas — آیت 45
قصے · 28:45 · 45/88
وَلَـٰكِنَّآ أَنشَأْنَا قُرُونًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ ٱلْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًا فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ
Walakinna ansha-naquroonan fatatawala AAalayhimu alAAumuru wama kuntathawiyan fee ahli madyana tatloo AAalayhim ayatinawalakinna kunna mursileen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
لیکن ہم نے (موسٰی کے بعد) کئی اُمتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گذر گئی اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے
محمد جوناگڑھی
لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں جن پر لمبی مدتیں گزر گئیں، اور نہ تو مدین کے رہنے والوں میں سے تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا بلکہ ہم ہی رسولوں کے بھیجنے والے رہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
بلکہ اُس کے بعد (تمہارے زمانے تک)ہم بہت سی نسلیں اُٹھا چکے ہیں اور اُن پر بہت زمانہ گُزر چکا ہے۔ تم اہلِ مَدیِن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے، مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
لیکن ہم نے پیدا کیں بہت سی نسلیں تو ان کے اوپر ایک لمبی عمر بیت گئی اور نہ ہی آپ ﷺ اہل مدین کے درمیان مقیم تھے کہ ان کو ہماری آیات پڑھ کر سناتے بلکہ یہ تو ہم ہیں (رسولوں کو) بھیجنے والے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں[1] جن پر لمبی مدتیں گزر گئیں[2]، اور نہ تو مدین کے رہنے والوں میں سے تھا[3] کہ ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا بلکہ ہم ہی رسولوں کے بھیجنے والے رہے.[4]
حواشی
[1] قُرُونٌ، قَرْنٌ کی جمع ہے، زمانہ۔ لیکن یہاں امتوں کے معنی میں ہے یعنی اے محمد! (صلى الله عليه وسلم) آپ کے اور موسی، (عليه السلام) کے درمیان جو زمانہ ہے اس میں ہم نے کئی امتیں پیدا کیں۔ [2] یعنی مرور ایام سے شرائع واحکام بھی متغیر ہوگئے اور لوگ بھی دین کو بھول گئے، جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے حکموں کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے عہد کو فراموش کر دیا اور یوں اس کی ضرورت پیدا ہوگئی کہ ایک نئے نبی کو مبعوث کیا جائے یا یہ مطلب ہے کہ طول زمان کی وجہ سے عرب کے لوگ نبوت ورسالت کو بالکل ہی بھلا بیٹھے، اس لیے آپ کی نبوت پر انہیں تعجب ہورہا ہے اور اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ [3] جس سے آپ خود اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ ہو جاتے۔ [4] اور اسی اصول سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور پچھلے حالات وواقعات سے آپ کو باخبر کر رہے ہیں۔