سورہ Al-Qasas — آیت 32

قصے · 28:32 · 32/88

ٱسْلُكْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍ وَٱضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ ٱلرَّهْبِ ۖ فَذَٰنِكَ بُرْهَـٰنَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا فَـٰسِقِينَ

Osluk yadaka fee jaybika takhruj baydaamin ghayri soo-in wadmum ilayka janahakamina arrahbi fathanika burhanani minrabbika ila firAAawna wamala-ihi innahum kanooqawman fasiqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں

محمد جوناگڑھی

اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازُو بھینچ لے۔ یہ دوروشن نشانیاں ہیں تیرے ربّ کی طرف سے فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے پیش کر نے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ نکلے گا سفید ہو کر بغیر کسی بیماری کے اور اپنا بازو اپنے ساتھ چپکا لو خوف سے (بچنے کے لیے) تو یہ دو نشانیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف یقیناً وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید[1] اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے[2]، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں.[3]

حواشی

[1] یہ يَدٌ بَيْضَاءُ دوسرا معجزہ تھا جو انہیں عطا کیا گیا۔ كَمَا مَرَّ۔ [2] لاٹھی کے اژدھا بن جانے کی صورت میں جو خوف حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو لاحق ہوتا تھا، اس کا حل بتلا دیا گیا کہ اپنا بازو اپنی طرف ملا لیا کر یعنی بغل میں دبا لیا کر، جس سے خوف جاتا رہا کرے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ عام ہے کہ جب بھی کسی سے کوئی خوف محسوس ہو تو اس طرح کرنے سے خوف دور ہو جائے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی اقتدا میں جو شخص بھی گھبراہٹ کے موقع پر اپنے دل پر ہاتھ رکھے گا، تو اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا یا کم از کم ہلکا ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ [3] یعنی فرعون اور اس کی جماعت کے سامنے یہ دونوں معجزے اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرو۔ یہ لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں اور اللہ کے دین کے مخالف ہیں۔