سورہ Al-Qamar — آیت 37
چاند · 54:37 · 37/55
وَلَقَدْ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِۦ فَطَمَسْنَآ أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا۟ عَذَابِى وَنُذُرِ
Walaqad rawadoohu AAan dayfihifatamasna aAAyunahum fathooqoo AAathabeewanuthur
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ان سے ان کے مہمانوں کو لے لینا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھیں مٹا دیں سو (اب) میرے عذاب اور ڈرانے کے مزے چکھو
محمد جوناگڑھی
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں، (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں مونددیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور انہوں نے اس سے اس کے مہمانوں کو لے جانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا تو مزا چکھو اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور ان (لوط علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا[1] پس ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں[2]، (اور کہہ دیا) میرا عذاب اور میرا ڈرانا چکھو.
حواشی
[1] یا بہلایا یا مانگا لوط (عليه السلام) سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط (عليه السلام) کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبر ونوجوان لوط (عليه السلام) کے ہاں آئے ہیں (جو دراصل فرشتے تھے اور ان کو عذاب دینے کے لیے ہی آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط (عليه السلام) سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔ [2] کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائل اور اسرافیل (عليه السلام) تھے۔ جب انہوں نے بدفعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانوں) کو لینے پر زیادہ اصرار کیاتو جبرائیل (عليه السلام) نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلےہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں ، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کوپہنچا جو حضرت لوط (عليه السلام) کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور پھر صبح اس عذاب عام میں تباہ ہو گئے جو پوری قوم کے لیے آیا (تفسیر ابن کثیر)۔